Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

تعمیر انسانیت | Taamir e Insaniyat | Wahiduddin Khan Mirza Hamid Baig •کنوارے کھیت | Seeds of

SKU: 10902273723

4.3
USD190.00 USD212.00

Pay in 4 interest-free payments of $47.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 28 - Sep 2

Description

•کنوارے کھیت | Seeds of Tomorrow (1932)

اکارٹ ٹولے بھی اُسی منزل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ آپکو رستہ دکھا رہا ہے۔ آپکو پکار رہا ہے۔ آپکو صدا دے رہا ہے۔ کبھی وہ اس منزل کی خوبیاں بیان کرتا ہے۔ کبھی وہ تمہارے دکھوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ تمہیں یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ تم جس دنیا میں جی رہے ہو وہ کتنی مصیبتوں اور دکھوں سے بھری ہوئی دنیا ہے۔ تو کبھی وہ اپنی دنیا کے بارے میں اشارے دیتا ہے کہ دیکھو میں جس دنیا میں ہوں یہاں پر کتنا سکون اور کتنا اطمینان ہے ۔کبھی وہ آپ کو قائل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی وہ آپکو پریشان کرتا ہے ۔ وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اس سے پہلے کہ موت تم سے یہ زندگی اور یہ جسم چھین لے تم پہلے ہی اس جسم اور زندگی کو موت کے حوالے کر دو ۔ اور یہ طریقہ صوفیا اور اولیاء کا طریقہ ہے ۔یہ طریقہ دانشوروں کا طریقہ ہے ، یہ طریقہ مفکروں کا طریقہ ہے، یہ اہلِ نظر کا طریقہ ہے۔ جو چیز موت چھین لے گی اسے وہ پہلے ہی موت کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور یوں وہ زندگی کو زندگی کی طرح جیتے ہیں ۔ تم بھی اگر زندگی کو زندگی کی طرح جینا چاہتے ہو تو پھر اکارٹ ٹولے کی بات کو کان لگا کر سنو

ترجمہ | انور عظیم

کنوٹ پیڈرسن، جو کنوٹ ہامسن کے نام سے مشہور ہوئے، نارویجن مصنف ہیں جن کا کام انفرادیت پسندی کا انعکاس اور صنعتی تہذیب کی تردید کرتا ہے۔ ان کا اَدبی کیریئر ستر سال سے زائد عرصے پر محیط ہے اور ان کے موضوعات، تناظر و ماحول کے حوالے سے تنوع رکھتے ہیں۔ ہامسن نے ناولز کے علاوہ ایک شعری مجموعہ، کچھ افسانے و ڈرامے اور چند مضامین بھی لکھے۔ باقاعدہ تعلیم تو حاصل نہ کی لیکن کرسٹیانا یونیورسٹی اوسلو میں داخل ہوئے اور صحافی بننے کا سوچنے لگے۔ تاہم جلد ہی امریکا چلے گئے اور وہاں مختلف پیشے اپنانے کے ساتھ ساتھ لکھتے بھی رہے۔ 1888ء میں واپس ناروے آئے اور اپنا سارا وقت لکھنے میں صَرف کرنے لگے۔ نوجوانی میں حقیقت پسندی اور فطرت پسندی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت پسند ادب کا مرکزی مقصد انسانی ذہن کی ژولیدگیاں ہونا چاہیے اور اہلِ قلم کا کام ”خون کی سرگوشیاں“ اور ”ہڈیوں کے گودے کی التجا“ بیان کرنا ہونا چاہیے۔ ہامسن کو بیسویں صدی کے آغاز پر نو رومانوی بغاوت کا قائد خیال کیا جاتا ہے۔

امروز نے اپنا ھاتھ میں میرا ھاتھ پکڑ کر کہا ، ”اچھا ،

تعمیر انسانیت | Taamir e Insaniyat | Wahiduddin Khan Mirza Hamid Baig •کنوارے کھیت | Seeds ofTameer Insaniyat nBoook By Mulana Wahid Ud Din Khan

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products