ویسے تو کئی مصنفین نے پنجاب کا حال بیان کیا ہے لیکن جو احوال بلونت کی تحریروں میں ملتا ہے اس کی مثال نہیں۔ قاری ایک ایک منظر اپنی انکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھتا ہے اور خود کو پنجاب کے دیہاتوں میں چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے۔ بلونت کے نزدیک پنجاب ایک ہنستا مسکراتا دیس ہے۔ محبت کی شدتیں،نفرت کی جولانیاں ،میلے،ٹھیلے،اکھاڑے،کشتیاں،ڈاکوؤں کی زندگی، سانڈنیوں کا حملہ غرض ہر وہ چیز جو پنجاب کی نمائندگی کرتی اس ناول میں ہے۔
علموں بس کریں او یار
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اردو کی ترقی کے لئے اپنی زندگی کو وقف کردیا تھا۔ ان کی زبان کا کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جو اردو کی فکر سے خالی ہو۔ یہ ان کی خدمات کا اعتراف ہی ہے کہ وہ ہر جگہ بابائے اردو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
”کسی لڑکے کو لڑکی سے عشق ہو جائے تو میں اِسے زکام کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا، مگر وہ لڑکا میری توجہ کو اپنی طرف ضرور کھینچے گا جو ظاہر کرے کہ اُس پر سینکڑوں لڑکیاں جان دیتی ہیں لیکن درحقیقت وہ محبت کا اُتنا ہی بھوکا ہے جتنا بنگال کا فاقہ زدہ باشندہ۔۔۔ اِس بظاہر کامیاب عاشق کی رنگین باتوں میں جو ٹریجڈی سسکیتاں بھرتی ہوں گی اُس کو میں اپنے دل کے کانوں سے سنوں گا اور دوسروں کو سناؤں گا۔۔۔“
یہ ناول آنے والے وقتوں تک یاد رکھا جائے گا ، مجھے اس بات کا پورا یقین ہے
A Farewell To Arms /Ernest Hemingway Pro Arshad Javeed ویسے تو کئی مصنفین نےA Farewell to Arms is a classic novel by Ernest Hemingway, published in 1929. Drawing on his own experiences as an ambulance driver in World War I, Hemingway tells the tragic story of an American expatriate soldier, Frederic Henry, and his doomed love affair with an English nurse, Catherine Barkley.