Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

ایک جج ہنس بھی سکتا ہے شاید | ایم۔ آر کیانی 50% Discount اس ناول کا بنیادی سبق

SKU: 19621137565

4.4
USD190.00 USD212.00

Pay in 4 interest-free payments of $47.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 27 - Sep 1

Description

اس ناول کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انسانی فطرت کا بدلنا اگر ناممکن نہیں تو نہایت مشکل امر ہے۔ انسان اپنی فطرت کو بدلنے کے لئے کافی تگ و دو کرتا ہے لیکن آخرکار فطرت ہمیشہ غالب رہتی ہے ۔

دنیا کے بڑے مذاہب | عماد الحسن آزاد فارورقی | Dunya k Bady MAzahib

انسان اس کائنات کا عظیم ترین راز ہے ، لیکن بہت کم انسان ایسے ہوتے ہیں جو کہیں اور جانے کے بجائے اس راز کی کھوج لگاتے ہیں۔ کیونکہ انسان اکیلا اس دنیا میں آیا ہے اور اکیلے ہی اس دنیا سے روانہ ہو جائے گا ۔ اور پھر اسے اپنے وجود سے ہی پالا پڑے گا۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ کو جانتا ہی نہیں ہو گا تو وہ اپنی اس نادانی پر آنسو بہائے گا۔ اور باہر انسان جتنا بھی بھٹک لے جتنے بھی جتن کر لے کہیں پر پہنچنا نہیں ہوتا، ایک خالی پن اور ایک بے سکونی مسلسل انسان کو چبھوکے مارتی رہتی ہے۔ اور انسان خود کو نا مکمل محسوس کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ اس کاملیت کو پورا کرنے کے لیے مادی چیزوں کا سہارا لیتا رہتا ہے۔ اور اسے لگتا ہے کہ مادی چیزوں کو اکٹھا کر لینے سے شاید وہ کچھ پور ا ہو جائے گا ۔ لیکن ہر بار اس کا یہ بھر م سراب ثابت ہوتا ہے ۔ سکندر نے بھی اسی دوڑ میں آدھی دنیا فتح کر لی۔ لیکن جب موت آئی تو اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور ڈاکٹروں سے چند لمحے کی مہلت کی بھیک مانگ رہا تھا تاکہ اپنی ماں سے مل سکے۔ لیکن وہ روتے روتے بھکاری کی موت مر گیا۔ صرف سکندر ہی نہیں دنیا کا ہر انسان سکندر کی طرح بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ وہ کاملیت کو حاصل کرنے کے لیے دولت، شہرت اور عزت اکٹھی کرتا رہتا ہے ۔ لیکن اسکا ادھور ا پن ادھورا ہی رہتا ہے۔ اور موت اس کو آ لیتی ہے۔ اور اسکا قصہ تمام کر دیتی ہے۔ انسان کتنا بھولا اور پاگل ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی بات نہیں سمجھ پاتا کہ اس کا جسم فانی ہے اور اس کے پاس محدود وقت ہے ۔ وہ صرف جسم نہیں بلکہ روح بھی ہے۔ پھر بھی اسکی تمام دوڑ دھوپ جسم کے آرام کے لیے ہوتی ہے۔لیکن جسم تو جلد یا بدیر مٹی ہونے ہی والا ہے۔ اور وہ روح کی طرف دھیان ہی نہیں دیتا تبھی تو وہ بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔ جسے جدید میڈیکل آج ڈپریشن ، انگزائٹی ، اور ہائپر ٹینشن کا نام دیتی ہے۔ وہ بھی دراصل اسی روح سے دوری ، حقیقت سے دوری اور اپنے مرکز سے دوری کا سبب ہے۔لیکن انسان کتنا بھولا ہے کہ وہ پھر بھی اسی جسم کے علاج میں لگا رہتا ہے۔ روگ کوئی اور ہوتا ہے دوا کوئی اور کرتے رہتے ہیں۔ ہماری روح ہماری توجہ کے لیے بلکتی اور تڑپتی رہتی ہے ،اور ہم محض جسم کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں اور اس کے علاج کے لیے اپنی تمام دولت خرچنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔سکون ہمارے مرکز اور ہماری روح میں ہے اور ہم محیط میں ہی بھٹکتے بھٹکتے مر جاتے ہیں۔ اگر کوئی ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر اس بات سے اختلاف کرے تو اسے صوفیا کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسے معلوم ہو گا کہ انکی زندگی دنیاوی چیزوں کے معاملے میں کتنی پر سکون اور آرام دہ ہوتی ہے۔ انکو صرف ایک ہی بے چینی اور فکر ہوتی ہے اور وہ ہے قُربِ الٰہی۔اسکے علاوہ وہ ہردکھ ، درد اور ٹینشن سے آزاد ہوتے ہیں۔

تین لفظ "انسان"، زندگی" اور "موت" بہت بڑا فلسفہ ہیں۔ ہر فلاسفر ، دانشور، صوفی اور رشی کا ان تین لفظوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور یہی تین لفظ ہی انسان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ صرف مرنے کے لیے تو پیدا نہیں ہوا کوئی راز ہے جو عیاں نہیں ہے۔ یہی جستجو انسان کو اپنے اندر ڈبکی لگانے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ موت نے انسان کو مرنے سے پہلے جاگنے پر مجبور کیا۔ لیکن مجبور صرف وہی ہوتے ہیں جن کو اپنی موت دکھائی پڑتی ہے۔ باقیوں کے لیے موت صرف ایک جھوٹا لفظ ہے۔ ہر انسان کہتا ہے کہ سب نے مرنا ہے۔ لیکن انسان بڑا بھولا ہے کہ وہ سب میں خود کو شامل نہیں کرتا ۔ اسے یہی لگتا رہتا ہے دوسرے مریں گے مجھے اورمیرے اہل و عیال کو چھوڑ کر۔ لیکن اسکا یہ بھرم تب ٹوٹ جاتا ہے جب اسکا کوئی اپنا مر جاتا ہے ۔ پھر وہ روتا اور آنسو بہاتا ہے۔ اگر موت پر اس کو کامل یقین ہوتا تو اس پر رونے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔دراصل اس نے کبھی یہ خیال ہی نہیں کیا تھا کہ میرے قریبی بھی مر جائیں گے۔ جنید بغدادی ؒ کا بیٹا فوت ہو گیا تو انکو دھچکا لگا لیکن دوسرے ہی لمحے انکو سمجھ آ گیا کہ جو مرا ہے وہ تو مر ہی جانے والا تھا۔ اور پھر وہ رب کی رضا کے ساتھ راضی ہو گئے۔ ہم رب کی رضا کے ساتھ تبھی راضی ہو سکتے ہیں جب ہم حقیقت کو حقیقت کی نظر سے دیکھ لیتے ہیں۔ صوفیائے کرام مرنے سے پہلے مر جاتے ہیں ۔ا ور مرنے سے پہلے مر جانا زندگی میں جی اٹھنے کا دوسرا نام ہے۔انسان کے دو جنم ہوتے ہیں ایک جنم ماں کے بطن سے ہوتا ہے اور دوسرا جنم جب وہ جیتے جی اپنی موت کو دیکھ لیتاہے۔مرنے سے پہلے مر جانا انسان کا دوسرا جنم ہے۔ پھر اس کی زندگی پوری طرح بدل جاتی ہے۔کیونکہ موت زندگی کا دروازہ ہے۔ جیسے ہی انسان موت کی وادی میں چھلانگ لگاتا ہے۔ تو وہ زندگی کو پا لیتا ہے۔ موت دشمن نہیں ہے یہ دوست ہے اور موت نے ہی بڑے بڑے صوفی اور اولیا پیدا کیے ہیں ۔ اگر موت نہ ہوتی تو یہ زمین انسان کو تو جنم ہی نہ دے پاتی۔موت اپنے دامن میں زندگی کے بے پایاں سمندر کو چھپائے ہوئے ہے ۔اور ہم موت سے ہی ڈرتے رہتے ہیں اور تبھی تو ہم زندگی سے غافل رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ موت سے ڈرنے والا شخص زندگی سے بھی ڈرتا رہتا ہے۔ زندگی کی تمنا ہے تو موت کے دامن میں غوطہ زن ہونا پڑے گا ورنہ زندگی کا گوہر ِ نایاب ہاتھ نہیں آ سکتا ۔کیا وجہ ہے کہ موت جیسا حقیقی اور بے لباس سچ ہم دیکھ نہیں پاتے ؟ اس کے پیچھے بہت گہرا راز ہے ۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو ہم موت کے بار ے میں سنتے اور جانتے ہیں۔ ہم مرے ہوئے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ اس وقت ہمارا شعور اتنا پختہ نہیں ہوتا۔ شعور یہ نہیں سمجھ پاتا کہ مرنا کیا ہوتا ہے ۔ اور مر جانے کا مطلب کیا ہے۔ پھر جوان ہونے اور شعور کے پختہ ہونے تک بار بار ہمارا اس موت کے عمل سے واسطہ پڑتا ہے ۔ اور یوں ہمارا دماغ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ عمل اتنی بار ہمارے سامنے دہرایا جاتا ہے کہ ہم پر موت کا اثر ہی نہیں ہوتا ۔اور ہمیں یہی لگتا رہتا ہے کہ دوسرے مر رہے ہیں ، دوسرے ہی مریں گے میں تو ہمیشہ زندہ رہوں گا۔انسان کی ہر بیماری کی جڑ اسکا اپنا دماغ ہے ۔ دماغ کبھی ماضی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو کبھی مستقبل کے خوابوں میں الجھا ہوا ہے۔ کبھی انا انسان کے شعور پر غالب ہے تو کبھی بے ہوشی انسان کو اس زندگی سے منقطع کیے ہوئے ہے۔دماغ سے نجات ہر بیماری سے نجات ہے۔دماغ سے نجات کا مطلب ہے بے ہوشی سے نجات ، انا سے نجات ۔ اور یہ نجات آپ بنا کسی رہنما کے حاصل نہیں کر سکتے ۔یہ کتاب رہنما کی طرح آپکا ہاتھ پکڑ کر چلتی ہے۔اور آپکو تمام بیماریوں سے نجات دلاتی ہے۔اس کتاب میں عرفان کے حصول پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ کیونکہ عرفان کے بغیر انسان نہ خود کو جان پاتا ہے اور نہ خالق کو۔ کیونکہ حدیث قدسی کے الفاظ ہیں۔ " انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں" ۔ اگر انسان نے خود کو جان لیا تو خالق کو بھی جان لیا ۔ کیونکہ خالق انسان کی شہہ رگ سے بھی زیاد ہ قریب ہے۔یہ کتاب تصوف کی کتابوں میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل کتا ب ہے۔ یہ کتا ب انسان کی کمزوریوں اور بیماریوں کو انسان کے سامنے لاتی ہے تاکہ انسان اپنی کمزوریوں کو دیکھ سکے۔ اور ان سے چھٹکارا حاصل کرے۔ یاد رکھیں کوئی بھی کتاب آپ کو عرفان نہیں دے سکتی۔ کیونکہ کتابیں منزل کا پتہ بتاتی ہیں۔ کتابیں منزل کا راستہ دکھاتی ہیں۔ چلنا آپکو خود ہی پڑتا ہے۔ اور اگر آپ چلیں گے تو پہنچ جائیں گے۔ اگر صرف کتابیں پڑھ کر پہنچنا ہوتا تو بلھے شاہ کبھی نہ کہتے

صفحات 670

ایک جج ہنس بھی سکتا ہے شاید | ایم۔ آر کیانی 50% Discount اس ناول کا بنیادی سبق: ! :

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products